کیس سے واقف ذرائع، جنھوں نے آسٹریلوی میڈیا سے بات کی ہے کا کہنا ہے کہ شریک پائلٹ کو 2014 میں ایک سٹوڈنٹ ویزا جاری کیا گیا تھا اور اُنھوں نے 2015 سے 2017 کے درمیان آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ آسٹریلیا سے چلے گئے۔
Source: BBC Urdu Features (Urdu)
